31 جولائی 2012 - 19:30

حکومت امريکہ نے اپني ناکام پاليسيوں کو جاري رکھتے ہوئے ايران کے خلاف نئي پابنديوں پر عملدرآمد شروع کرديا ہے-

ابنا: امريکي صدر باراک اوباما نے منگل کے روز ايران کے خلاف نئي پابنديوں پر علمدرآمد کے بل پر دستخط کرديئے ہيں-

اس رپورٹ کے مطابق نئي پابنديوں کے تحت ديگر ملکوں کے لئے ايران کے تيل کي برامدات کو محدود کرنے کي کوشش کي گئي ہے-

وائٹ ہاوس کا کہنا ہے کہ باراک اوباما کو اميد ہے کہ نئي پابنديوں کے نتيجے ميں ايران بقول انکے اپني پرامن جوہري سرگرميوں کے حوالے عالمي معاہدوں کي پاسداري کرنے پر مجبور ہوجائے گا- امريکہ اور اس کے مغربي اتحادي ايران پر ايٹمي ہتھياروں کي تياري کا الزام لگاتے چلے آرہے ہيں اور اس بہانے انہوں نے تہران کے خلاف بعض پابندياں عائد کر رکھي ہيں-دوسري جانب جوہري توانائي کي عالمي ايجنسي کا کہنا ہے کہ تاحال ايسے کوئي شواہد نہيں ملے ہيں جن سے پتہ چلتا ہو کہ ايران ايٹمي ہتھيار بنانے کي کوشش کر رہا ہے-

ايران بھي بارہا ان الزامات کي ترديد کرچکا ہے تاہم اس بات پر زور ديتا چلا آرہا ہے کہ آئي اے اي اے کے رکن کي حثيت سے اسے پرامن مقاصد کے لئے جوہري پروگرام چلانے کا حق حاصل ہے-.......

/169